16 فروری 2013 - 20:30

درجنوں پاکستانی گذشتہ چھ ماہ سے سعودی عرب کے صحرا میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، تنخواہ دی جاتی ہے نہ کھانا، بیگار کیمپ میں جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی کفیل بات سنتا ہے نہ ہی پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنٹ کال اٹینڈ کرتا ہے، متاثرین کا تعلق راولپنڈی، چکوال، جہلم، فیصل آباد، اوکاڑہ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے مختلف علاقوں سے ہے

ابنا: اسلام ٹائمز کے مطابق راولپنڈی کی ایک ریکروٹمنٹ ایجنسی ٹرسٹ انٹر پرائزیز نے درجنوں پاکستانیوں سے فی کس اڑھائی لاکھ روپے لے کر انہیں سعودی عرب کی کمپنی سنام المطیری جس کے مالک مسند المطیری ہیں، کے حوالے کیا۔ تحریری معاہدے کے مطابق تمام ملازمین کی رہائش، اقامہ اور میڈیکل سعودی کمپنی کے ذمے تھا، لیکن کمپنی نے تمام پلمبرز، کارپنٹرز، ڈرائیورز اور اسٹیل فکسرز کو مدینہ منورہ سے چھ سو کلومیٹر دور صحرائی علاقے بگا میں ایک بیگار کیمپ میں پہنچا دیا، جہاں ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے انہیں خوراک دی جاتی ہے نہ طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ حتیٰ کہ تمام پاکستانی گذشتہ چھ ماہ سے تنخواؤں سے بھی محروم ہیں۔ متاثرین نے ٹیلیفوں کے ذریعے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ سارا دن بیگار کیمپ میں کام کرتے ہیں اور شام کو دیگر پاکستانی اور بھارتی شہریوں سے بھیک مانگتے ہیں۔ ان کے گھر والوں نے طلائی زیورات اور گھریلو مویشی فروخت کرکے انہیں اپنے بہتر مستقبل کے لئے سعودی عرب بھجوایا تھا، جہاں وہ ذہنی امراض کے ساتھ ساتھ بھکاری بھی بن چکے ہیں، کھانے پینے کی اشیاء تک راہ چلتے لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ سعودی کفیل بات سنتا ہے نہ ہی پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنٹ کال اٹینڈ کرتا ہے۔ ہم لوگ ہزاروں میل دور صحرا میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ کئی افراد بیمار پڑ چکے ہیں۔ انہیں طبی امداد ملتی ہے نہ کوئی دیکھ بھال کے لئے موجود ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک، سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر فاروق ستار اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے سے انسانیت کے نام پر ان سے فوری رابطہ قائم کرکے انہیں پاکستان منتقل کرنے کی پر زور اپیل کی ہے۔